Terjemahan makna Alquran Alkarim - Terjemahan Berbahasa Urdu * - Daftar isi terjemahan

XML CSV Excel API
Please review the Terms and Policies

Terjemahan makna Surah: Surah Ad-Dukhān   Ayah:

سورہ دُخان

حٰمٓ ۟ۚۛ
حٰم.
Tafsir berbahasa Arab:
وَالْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟ۙۛ
قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی.
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۟
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات(1) میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں.(2)
(1) بابرکت رات «لَيْلَةٌ مُبَارَكَةٌ» سے مراد شب قدر «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» (البقرة: 185) ”رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا“ «إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ» (سورة القدر) ”ہم نے یہ قرآن شب قدر میں نازل فرمایا“۔ یہ شب قدر رمضان کے عشرۂ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہو نے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے۔ تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے، اس رات کی عبادت ہزار مہینے (یعنی 83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلۂ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی (صلى الله عليه وسلم) پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اسی رات آپ پر قرآن نازل ہوا۔ یا یہ مطلب ہے کہ لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے حسب ضرورت و مصلحت 23 سالوں تک مختلف اوقات میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پر اترتا رہا۔ بعض لوگوں نے لیلۂ مبارکہ سے شعبان کی پندرھویں رات مراد لی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، جب قرآن کی نص صریح سے قرآن کا نزول شب قدر میں ثابت ہے تو اس سے شب براءت مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ علاوہ ازیں شب براء ت (شعبان کی پندرھویں رات) کی بابت جتنی بھی روایات آتی ہیں، جن میں اس کی فضیلت کا بیان ہے یا ان میں اسے فیصلے کی رات کہا گیا ہے، تو یہ سب روایات سنداً ضعیف ہیں۔ یہ قرآن کی نص صریح کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہیں؟
(2) یعنی نزول قرآن کا مقصد لوگوں کو نفع وضرر شرعی سے آگاہ کرنا ہے تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے۔
Tafsir berbahasa Arab:
فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍ ۟ۙ
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے.(1)
(1) يُفْرَقُ، يُفَصَّلُ وَيُبَيَّنُ، فیصلہ کردیا جاتا اور یہ کام کو اس سے متعلق فرشتے کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ حکیم بمعنی پر حکمت کہ اللہ کا ہر کام ہی باحکمت ہوتا ہے یا بمعنی مُحْكَمٍ (مضبوط، پختہ) جس میں تغیر وتبدیلی کا امکان نہیں۔ صحابہ وتابعین سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس رات میں آنے والے سال کی بابت موت وحیات اور وسائل زندگی کے فیصلے لوح محفوظ سے اتار کر فرشتوں کے سپرد کردیے جاتے ہیں۔ (ابن کثیر)۔
Tafsir berbahasa Arab:
اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ؕ— اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۟ۚ
ہمارے پاس سے حکم ہوکر(1) ، ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے.(2)
(1) یعنی سارے فیصلے ہمارے حکم واذن اور ہماری تقدیر ومشیت سے ہوتے ہیں۔
Tafsir berbahasa Arab:
رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟ۙ
آپ کے رب کی مہربانی سے(1) ۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ.
(1) یعنی انزال کتب کے ساتھ إِرْسَالُ رُسُلٍ (رسولوں کا بھیجنا) یہ بھی ہماری رحمت ہی کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ ہماری نازل کردہ کتابوں کو کھول کر بیان کریں اور ہمارے احکام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس طرح مادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت سے لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی سامان مہیا کردیا۔
Tafsir berbahasa Arab:
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا ۘ— اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ۟
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو.
Tafsir berbahasa Arab:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ؕ— رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۟
کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا.(1)
(1) یہ آیات بھی سورۂ اعراف کی آیت کی طرح ہیں، «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ» (سورۃ الاعراف:۔ 158)۔
Tafsir berbahasa Arab:
بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ ۟
بلکہ وه شک میں پڑے کھیل رہے ہیں.(1)
(1) یعنی حق اور اس کے دلائل ان کے سامنےآگئے۔ لیکن وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے شک میں مبتلا ہیں اور اس شک کے ساتھ استہزا اور کھیل کود میں پڑے ہیں۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ۟ۙ
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا.(1)
(1) یہ ان کفار کے لیے تہدید ہے کہ اچھا آپ اس دن کا انتظار فرمائیں جب کہ آسمان پر دھوئیں کا ظہور ہوگا۔ اس کے سبب نزول میں بتلایا گیا ہے کہ اہل مکہ کے معاندانہ رویئے سے تنگ آکر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان کے لیے قحط سالی کی بددعا فرمائی، جس کے نتیجے میں ان پر قحط کا عذاب نازل کردیا گیا حتیٰ کہ وہ ہڈیاں، کھالیں، اور مردار وغیرہ تک کھانے پر مجبور ہوگئے، آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انہیں دھواں سا نظر آتا۔ بالآخر تنگ آکر نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عذاب ٹلنے پر ایمان لانے کا وعدہ کیا، لیکن یہ کیفیت دور ہوتے ہی ان کا کفر وعناد پھر اسی طرح عود کر آیا۔ چنانچہ پھر جنگ بدر میں ان کی سخت گرفت کی گئی۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) بعض کہتے ہیں کہ قرب قیامت کی دس بڑی بڑی علامات میں سے ایک علامت دھواں بھی ہے جس سے کافر زیادہ متاثر ہوں گے اور مومن بہت کم۔ آیت میں اسی دھوئیں کا ذکر ہے۔ اس تفسیر کی رو سے یہ علامت قیامت کے قریب ظاہر ہوگی جب کہ پہلی تفسیر کی رو سے یہ ظاہر ہوچکی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اس کی شان نزول کے اعتبار سے یہ واقعہ ظہور پذیر ہوچکا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ تاہم علامات قیامت میں بھی اس کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے، اس لیے وہ بھی اس کے منافی نہیں ہے، اس وقت بھی اس کا ظہور ہوگا۔
Tafsir berbahasa Arab:
یَّغْشَی النَّاسَ ؕ— هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟
جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے.
Tafsir berbahasa Arab:
رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ ۟
کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں.(1)
(1) پہلی تفسیر کی رو سے یہ کفار مکہ نے کہا اور دوسری تفسیر کی رو سے قیامت کے قریب کافر کہیں گے۔
Tafsir berbahasa Arab:
اَنّٰی لَهُمُ الذِّكْرٰی وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ ۟ۙ
ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے.
Tafsir berbahasa Arab:
ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ ۟ۘ
پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے.
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَ ۟ۘ
ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے.
Tafsir berbahasa Arab:
یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰی ۚ— اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ ۟
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے(1) ، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں.
(1) اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنالیے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے۔ اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌ ۟ۙ
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں(1) جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا.
(1) آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں دنیوی خوشی، خوشحالی وفراغت سے نوازا اور پھر اپنا جلیل القدر پیغمبر بھی ان کی طرف ارسال کیا لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کیا اور نہ پیغمبر پر ایمان لائے۔
Tafsir berbahasa Arab:
اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ ؕ— اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۟ۙ
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر(1) دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں.(2)
(1) عِبَادَ اللهِ سے مراد یہاں موسیٰ (عليه السلام) کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنارکھا تھا۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
(2) اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَّاَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَی اللّٰهِ ؕ— اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۟ۚ
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو(1) ، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں.(2)
(1) یعنی اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرکے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی اور سرکشی کا اظہار نہ کرو۔
(2) یہ ماقبل کی علت ہے کہ میں ایسی حجت واضحہ ساتھ لایا ہوں جس کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ ۟ۚ
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو.(1)
(1) اس دعوت وتبلیغ کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (عليه السلام) کو قتل کی دھمکی دی، جس پر انہوں نے اپنے رب سے پناہ طلب کی۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ ۟
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو.(1)
(1) یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی یا اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ ۟
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں.(1)
(1) یعنی جب انہوں نے دیکھا کہ دعوت کا اثر قبول کرنے کے بجائے، اس کا کفروعناد اور بڑھ گیا تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۟ۙ
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا(1) پیچھا کیا جائے گا.
(1) چنانچہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات لے کر یہاں سے نکل جاؤ۔ اور دیکھو ! گھبرانا نہیں، تمہارا پیچھا بھی ہوگا۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ؕ— اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ۟
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا(1) ، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا.
(1) رَهْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہوجائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہوجائے اور ہم اسے وہیں غرق کردیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۙ
وه بہت سے باغات(1) اور چشمے چھوڑ گئے.
(1) كَمْ، خبر یہ ہے جو تکثیر کا فائدہ دیتا ہے۔ دریائے نیل کے دونوں طرف باغات اور کھیتوں کی کثرت تھی، عالی شان مکانات اور خوش حالی کے آثار تھے۔ سب کچھ یہیں دنیا میں ہی رہ گیا اور عبرت کے لیے صرف فرعون اور اس کی قوم کا نام رہ گیا۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍ ۟ۙ
اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے.
Tafsir berbahasa Arab:
وَّنَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَ ۟ۙ
اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے.
Tafsir berbahasa Arab:
كَذٰلِكَ ۫— وَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ۟
اسی طرح ہوگیا(1) اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا.(2)
(1) یعنی یہ معاملہ اسی طرح ہوا جس طرح بیان کیا گیا ہے۔
(2) بعض کے نزدیک اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک بنی اسرائیل کا دوبارہ مصر آنا تاریخی طور پر ثابت نہیں، اس لیے ملک مصر کی وارث کوئی اور قوم بنی۔ بنی اسرائیل نہیں۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ ۟۠
سو ان پر نہ تو آسمان وزمین(1) روئے اور نہ انہیں مہلت ملی.
(1) یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے محرومی پر زمین روتی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان وزمین میں سے کوئی بھی ان کی ہلاکت پر رونے والا نہیں تھا۔ (فتح القدیر)۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِ ۟ۙ
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی.
Tafsir berbahasa Arab:
مِنْ فِرْعَوْنَ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ ۟
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا.
Tafsir berbahasa Arab:
وَلَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۟ۚ
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی.(1)
(1) اس جہان سے مراد، بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے۔ علی الاطلاق کل جہان نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہاں والوں پر فضیلت رکھتے تھے۔ ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَاٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ ۟
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.(1)
(1) آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ احسانات ہیں جو اللہ نے ان پر فرمائے۔ مثلاً فرعونیوں کو غرق کر کے ان کو نجات دینا، ان کے لیے دریا کو پھاڑ کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ اور من وسلویٰ کا نزول وغیرہ۔ اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان احسانات کے بدلے میں یہ قوم اللہ کی فرماں برداری کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے اس کی بغاوت اور سرکشی کا راستہ اپناتی ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَ ۟ۙ
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں.(1)
(1) یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لیے کہ سلسلۂ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے بھی ان کی طرح کفر پر اصرار کیا تھا، دیکھ لو، اس کا کیا حشر ہوا۔ اگر یہ بھی اپنے کفروشرک پر مصر رہے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے ماننے والوں سے مختلف نہیں ہوگا۔
Tafsir berbahasa Arab:
اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ ۟
کہ (آخری چیز) یہی ہماری پہلی بار (دنیا سے) مرجانا ہے اور ہم(1) دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے.
(1) یعنی یہ دنیا کی زندگی ہی بس آخری زندگی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب ہونا ممکن نہیں ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَاْتُوْا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ.(1)
(1) یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واقعی صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھادو۔ یہ ان کا جدل اور کٹ حجتی تھی کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کا عقیدہ قیامت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت سے پہلے ہی دنیا میں زندہ ہوجانا یا کردینا۔
Tafsir berbahasa Arab:
اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ ۙ— وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ— اَهْلَكْنٰهُمْ ؗ— اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۟
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے.(1)
(1) یعنی یہ کفار مکہ کیا تبع اور ان سے پہلے کی قومیں، عاد وثمود وغیرہ سے زیادہ طاقت ور اور بہتر ہیں، جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں، ان سے زیادہ قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہلاک کردیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ تبع سے مراد قوم سبا ہے۔ سبا میں حمیر قبیلہ تھا، یہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے، جیسے روم کے بادشاہ کو قیصر، فارس کے بادشاہ کو کسریٰ، مصر کے حکمران کو فرعون اور حبشہ کے فرماں روا کو نجاشی کہا جاتا تھا۔ اہل تاریخ کا اتفاق ہے کہ تبابعہ میں سے بعض تبع کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ بعض مورخین نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ملکوں کو فتح کرتے ہوئے سمرقند تک پہنچ گیا، اس طرح اور بھی کئی عظیم بادشاہ اس قوم میں گزرے اور اپنے وقت کی یہ ایک عظیم ترین قوم تھی جو قوت وطاقت، شوکت وحشمت اور فراغت وخوشحالی میں ممتاز تھی۔ لیکن جب اس قو م نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی تو اسے تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ سبا کی متعلقہ آیات) حدیث میں ایک تبع کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا، اسے سب و شتم نہ کرو (مجمع الزوائد 87 / 86 ،صحیح الجامع للالبانی، 1319) تاہم ان کی اکثریت نافرمانوں کی ہی رہی ہے جس کی وجہ سے ہلاکت ان کا مقدر بنی۔
Tafsir berbahasa Arab:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ ۟
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا.(1)
(1) یہی مضمون اس سے قبل سورۂ ص:27 ،سورۃ المومنون: 115-116، سورۃ الحجر: 85 وغیرھا میں بیان کیا گیا ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا(1) ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے.(2)
(1) وہ مقصد یا درست تدبیر یہی ہے کہ لوگوں کی آزمائش کی جائے اور نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدیوں کی سزا دی جائے۔
(2) یعنی وہ اس مقصد سے غافل اور بے خبر ہیں۔ اسی لیے آخرت کی تیاری سے لاپروا اور دنیا میں منہمک ہیں۔
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟ۙ
یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شده وقت ہے.(1)
(1) یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا اور آسمان وزمین کی تخلیق کی گئی ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْـًٔا وَّلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ ۟ۙ
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی.(1)
(1) جیسے فرمایا: «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ» (المؤمنون: 101) «وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا» (المعارج: 10)۔
Tafsir berbahasa Arab:
اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۟۠
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے.
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ ۟ۙ
بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت.
Tafsir berbahasa Arab:
طَعَامُ الْاَثِیْمِ ۟
گناه گار کا کھانا ہے.
Tafsir berbahasa Arab:
كَالْمُهْلِ ۛۚ— یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِ ۟ۙ
جو مثل تلچھٹ(1) کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے.
(1) مُهْلٌ پگھلا ہوا تانبہ، آگ میں پگھلی ہوئی چیز یا تلچھٹ تیل وغیرہ کے آخر میں جو گدلی سی مٹی کی تہ رہ جاتی ہے۔
Tafsir berbahasa Arab:
كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ ۟
مثل تیز گرم پانی کے.(1)
(1) وہ زقوم کی خوراک، کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں کھولے گی۔
Tafsir berbahasa Arab:
خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰی سَوَآءِ الْجَحِیْمِ ۟ۙ
اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ.(1)
(1) یہ جہنم پر مقرر فرشتوں سے کہا جائے گا، سواء ، بمعنی وسط۔
Tafsir berbahasa Arab:
ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ ۟ؕ
پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ.
Tafsir berbahasa Arab:
ذُقْ ۖۚ— اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ ۟
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا.(1)
(1) یعنی دنیا میں اپنے طور پر تو بڑا ذی عزت اور صاحب اکرام بنا پھرتا تھا اور اہل ایمان کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ ۟
یہی وه چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے.
Tafsir berbahasa Arab:
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ ۟ۙ
بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے.
Tafsir berbahasa Arab:
فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۚۙ
باغوں اور چشموں میں.
Tafsir berbahasa Arab:
یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۟ۚۙ
باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے.(1)
(1) اہل کفر وفسق کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا مقام بیان کیا جارہا ہے۔ جنہوں نے اپنا دامن کفروفسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ امین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہوں گے۔
Tafsir berbahasa Arab:
كَذٰلِكَ ۫— وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ ۟ؕ
یہ اسی طرح ہے(1) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے.(2)
(1) یعنی متقین کے ساتھ یقیناً ایسا ہی معاملہ ہوگا۔
(2) حٌورٌ حَوْرَاءُ کی جمع ہے۔ یہ حُورٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ آنکھ کی سفیدی انتہائی اور سیاہی انتہائی سیاہ ہو۔ حَوْرَاءُ اس لیے کہا جاتا ہے کہ نظریں ان کے حسن وجمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گی عِينٌ ، عَيْنَاءُ کی جمع ہے، کشادہ چشم۔ جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ ہر جنتی کو کم ازکم دو حوریں ضرور ملیں گی۔ جو حسن وجمال کے اعتبار سے چندے آفتاب وماہتاب ہوں گی۔ البتہ ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، جسے صحیح کہا گیا ہے ، کہ شہید کو خصوصی طور پر 72 حوریں ملیں گی (أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء أي الناس أفضل)۔
Tafsir berbahasa Arab:
یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَ ۟ۙ
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے.(1)
(1) آمِنِينَ (بےخوفی کے ساتھ) کا مطلب ان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا نہ ان کے کھانے سے بیماری وغیرہ کا خوف یاموت، تھکاوٹ اور شیطان کاکوئی خوف نہیں ہوگا۔
Tafsir berbahasa Arab:
لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰی ۚ— وَوَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۟ۙ
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت(1) (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا.
(1) یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کامﺰہ نہیں چکھنا پڑے گا۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ ”موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لاکر دوزخ اور جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا، اے جنتیو ! تمہارے لیے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لیےموت نہیں۔ اور اے جہنمیو ! تمہارے لیے جہنم کا عذاب دائمی ہے، موت نہیں“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة مريم ، مسلم، كتاب الجنة ، باب النار يدخلها الجبارون ، والجنة يدخلها الضعفاء) دوسری حدیث میں فرمایا ”اے جنتیو ! تمہارا مقدر اب صحت وقوت ہے، تم کبھی بیمار نہیں ہو گے۔ تمہارے لیے اب زندگی ہی زندگی ہے، موت نہیں۔ تمہارے لیےنعمتیں ہی نعمتیں ہیں، ان میں کمی نہیں ہوگی اور سدا جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا طاری نہیں ہوگا“۔(صحيح بخاري ، كتاب الرقاق ، باب القصد والمداومة على العمل ، ومسلم كتاب مذكور)۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ ؕ— ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۟
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے(1) ، یہی ہے بڑی کامیابی.
(1) جس طرح حدیث میں بھی ہے۔ فرمایا (یہ بات جان لو ! تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ! آپ کو بھی؟ فرمایا ”ہاں مجھے بھی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا“ (صحيح بخاري ، كتاب الرقاق ، باب القصد والمداومة على العمل ، ومسلم كتاب مذكور)۔
Tafsir berbahasa Arab:
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ۟
ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں.
Tafsir berbahasa Arab:
فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ ۟۠
اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں.(1)
(1) تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ ونفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہوجائیں۔
Tafsir berbahasa Arab:
 
Terjemahan makna Surah: Surah Ad-Dukhān
Daftar surah Nomor Halaman
 
Terjemahan makna Alquran Alkarim - Terjemahan Berbahasa Urdu - Daftar isi terjemahan

Terjemahan makna Al-Qur`ān Al-Karīm ke bahasa Urdu oleh Muhammad Ibrahim Jonakri. Sudah dikoreksi di bawah pengawasan Markaz Ruwād Terjemah. Teks terjemahan asli masih bisa ditampilkan untuk diberi masukan, evaluasi dan pengembangan.

Tutup