Firo maanaaji al-quraan tedduɗo oo - Firo ordiiwo * - Tippudi firooji ɗii

XML CSV Excel API
Please review the Terms and Policies

Firo maanaaji Aaya: (176) Simoore: Simoore yimooɓe
كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْـَٔیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ۚۖ
اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
(1) أَيْكَةَ، جنگل کو کہتے ہیں۔ اس سے حضرت شعیب (عليه السلام) کی قوم اور بستی (مدین) کے اطراف کے باشندے مراد ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ ایکہ کے معنی ہیں گھنا درخت اور ایسا ایک درخت مدین کی نواحی آبادی میں تھا۔ جس کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔ حضرت شعیب (عليه السلام) کا دائرۂ نبوت اور حدود دعوت و تبلیغ، مدین سے لے کر اس نواحی آبادی تک تھا، جہاں ایکہ درخت کی پوجا ہوتی تھی۔ وہاں کے رہنے والوں کو اصحاب الایکہ کہاگیا ہے۔ اس لحاظ سے اصحاب الایکہ اور اہل مدین کے پیغمبر ایک ہی یعنی حضرت شعیب (عليه السلام) تھے اور یہ ایک ہی پیغمبر کی امت تھی۔ ایکہ، چونکہ قوم نہیں، بلکہ درخت تھا۔ اس لیے اخوت نسبی کا یہاں ذکر نہیں کیا، جس طرح کہ دوسرے انبیا کے ذکر میں ہے۔ البتہ جہاں مدین کے ضمن میں حضرت شعیب (عليه السلام) کا نام لیاگیا ہے، وہاں ان کے اخوت نسبی کا ذکر بھی ملتا ہے، کیونکہ مدین، قوم کا نام ہے۔«وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا» (الأعراف: 85) بعض مفسرین نے اصحاب الایکہ اور مدین کو الگ الگ بستیاں قرار دے کر کہا ہے کہ یہ مختلف دو امتیں ہیں، جن کی طرف باری باری حضرت شعیب (عليه السلام) کو بھیجا گیا۔ ایک مرتبہ مدین کی طرف اور دوسری مرتبہ اصحاب الایکہ کی طرف۔ لیکن امام ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، «أَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ» کا جو وعظ اہل مدین کو کیا گیا، یہی وعظ یہاں اصحاب الایکہ کو کیاجارہا ہے، جس سے صاف واضح ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، دو نہیں۔
Faccirooji aarabeeji:
 
Firo maanaaji Aaya: (176) Simoore: Simoore yimooɓe
Tippudi cimooje Tonngoode hello ngoo
 
Firo maanaaji al-quraan tedduɗo oo - Firo ordiiwo - Tippudi firooji ɗii

Firo maanaaji al-quraan tedduɗo oo e ɗemngal sordeen, firi ɗum ko firi ɗum ko Muhammad Ibraahiim jonkari Ngo feewnitaama e ngardiingo hentorde kanngameeji firo, ina newnaa ƴellitaade e firo asliiwo ngoo ngam feññinde yiyannde e horde e ƴellito duumiingo.

Uddude